RSS Feed

7 May, 2014 16:22

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

07-MAY-2014

کیا اس لئیے گیارہ مئی کو احتجاج کیا جا رہا ہے کہ اس دن جمہوری طریقے سے اقتدار منتقل کیا گیا تھا۔ لطیف کھوسہ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے متعلق جو باتیں کی ہیں ان پر ہمارے بھی کچھ تحفظات ہیں۔ لطیف کھوسہ

انتخابات میں دھاندلی میں چیف جسٹس اور میڈیا کا ایک گروپ جس کا نام عمران خان لیتے ہیں ملوث ہیں۔ لطیف کھوسہ

اس دفعہ تاریخی طور پر جن قوتوں پر الیکشن دھاندلی کا الزام لگتا تھا ان پر نہیں لگا۔ ہمایوں اختر خان

الیکشن میں دھانلدی پر تحقیقات ہونی چاہئییں تھیں تا کہ بات موجودہ سطح تک نہ پہنچتی۔ ہمایوں اختر خان

مسلم لیگ ن کی چالیس سے پچاس ہزار ووٹوں تک کی اکثریت ہے اس میں کتنی دھاندلی ہو سکتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی

میرانی صاحب کے حلقے میں ایک ہی بندے نے پانچ پانچ سو ووٹ ڈالے ہوئے ہیں۔ لطیف کھوسہ

بیوروکریسی مسلم لیگ ن کو سپورٹ کر رہی تھی اور آر او ان کے کنٹرول میں تھے۔ لطیف کھوسہ

اگر دھاندلی ہوئی ہو تو الیکش کمشن ساٹھ دنوں کے اندر اس پر ایکشن لے سکتا ہے۔ جسٹس طارق محمود

سپریم کورٹ کے سامنے ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ جس کے تحت وہ عمران خان کی دھاندلی کے خلاف درخواست سن سکے۔طارق محمود

یہ ہو جاتا ہے کہ ایک فریق ایک حلقے میں مظبوط ہوتا ہے اور اپنی مرضی سے چند ووٹ ڈلوا لیتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم پارلیمنٹ کو مانتے نہیں ہیں اور سینٹ میں وہ جاتے نہیں ہیں۔ لطیف کھوسہ

میرے خیال میں حکومت اور ملٹری میں ٹینشن موجود ہے اور بڑھ رہی ہے۔ ہمایوں اختر خان

سیاسی حکومتیں اپنی کارکردگی سے مظبوط ہوتی ہیں اور موجودہ حکومت اب تک ڈلیور نہیں کر سکی۔ ہمایوں اختر خان

حکومت اور ملٹری میں کوئی ٹینشن نہیں ہے میڈیا یہ بات پھیلا رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی

وزیرداخلہ چوہدری نثار نے خود مانا ہے کہ فوج اور حکومت میں ٹینشن ہے۔ لطیف کھوسہ

ایک سال میں حکومت کی کارکردگی بالکل قابل زکر نہیں رہی ہے۔ لطیف کھوسہ

میاں صاحب نے تاریخ سےسبق نہیں سیکھا وہ ہیٹ ٹرک کرنا چاہتے ہیں انہیں جانے کی جلدی لگتی ہے۔ لطیف کھوسہ

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت ایسے کام کیوں کر رہی ہے کہ جن پر فوج کو رد عمل دکھانے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ ہمایوں اختر خان

ہمارے ارد گرد افغانستان اور بھارت میں صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے حکومت کو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لطیف کھوسہ

حکومت پرویز مشرف کے غیر ضروری مسئلے میں الجھی ہوئی ہے عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔ لطیف کھوسہ

یہ بات بالکل واضع ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ معین حیدر

پرویز مشرف اور حامد میر کے مسئلے سے حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔ معین حیدر

حامد میر پر حملے کے بعد فوج کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی حکومت کو اس میں مداخلت کرنی چاہئیے تھی۔ معین حیدر

پانچ ہزار فوجی شہید ہو چکے ہیں فوج کے خلاف مہم پر ان کے گھر والے کیا سوچتے ہوں گے، ہمایوں اختر خان

حکومت اور فوج کے خلاف اختلاف رائے ضرور ہے لیکن ٹینشن نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی

فوج جنگ لڑ رہی ہے اور حکومت اس کو مزاق بنا رہی ہے فوج میں رد عمل موجود ہے۔ ہمایوں اختر خان

حکومت مظبوط ہے آئین کے مطابق چل رہی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: