RSS Feed

4 February, 2015 17:05

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

04-FEB-2015

میں نے سانحہ پشاور کے بعد ہی کہا تھا کہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف جوش و جزبہ دکھائی نہیں دیتا۔ سعید غنی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کھل کر دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں اور دوسری طرف ان کے حمایتی ہیں۔ سعید غنی

حکومت کو دہشت گردی کے خلاف قوم کو ساتھ لے کر ایک مہم چلانی پڑے گی۔ سعید غنی

ہمارے پاس لیڈرز نہیں ہیں ہمارے پاس کسٹم میڈ لیڈرز ہیں۔ وسیم اختر

ہمارے لیڈرز وہ ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو کہا تھا کہ ہمیں نہ مارنا ہم بھی تمہارے ساتھی ہیں۔ وسیم اختر

دہشت گردی کے خلاف جنگ فوج کے حوالے کر دینی چاہئیے ان حکمرانوں کے چکر میں نہیں رہنا چاہئیے۔ وسیم اختر

ہم ہر کام فوج کے سپرد کر دیتے ہیں ہمیں پولیس کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ شفقت محمود

سیاسی لوگوں کا ایک اپنا کردار ہے جو انہیں ادا کرنا چاہئیے۔ شفقت محمود

دہشت گردی کسی ایک علاقعے کا نہیں یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اسے جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ سعید غنی

وزیراعظم نے آج تک دہشت گردی کے خلاف کھل کر قوم سے خطاب نہیں کیا ان میں جوش اور ولولہ دکھائی نہیں دیتا۔ سعید غنی

آج تک پاکستان کو بہادر لیڈر شپ نہیں ملی اب اور انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ وسیم اختر

سول ادارے مظبوط کریں اور فوج کو اس وقت بلایں جب سول حکومت کے بس کی بات نہ رہے۔ شفقت محمود

سانحہ پشاور کے بعد پی ٹی آئی نے دھرنا ختم کر دیا اور ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی جو دھاندلی کی پیداوار ہیں۔ شفقت محمود

سول حکومتیں دہشت گردی کے خلاف ناکام ہو چکی ہیں۔ وسیم اختر

مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو دہشت گردی کا مسئلہ حل کر لینا چاہئیے تا کہ پوری توجہ دہشت گردی کے خلاف دی جا سکے۔ سعید غنی

گلی محلوں میں دہشت گردوں پر ںظر رکھنے کا کام فوج نہیں کر سکتی اس کے لئیے پولیس کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ شفقت محمود

ہمارے سیاست دان کرپٹ ہیں اور کرپٹ بندہ بہادر نہیں ہو سکتا۔ وسیم اختر

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: