RSS Feed

7 August, 2015 06:23

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

06-AUGUST-2015

ایم کیو ایم والے دو ہزار دو سے سات تک حکومت میں تھے انہوں نے اچھا کام کیا تھا۔ آج کے واحد مہمان پرویز مشرف کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

مجھے نہیں معلوم کہ ایم کیو ایم کا را کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کا پتہ لگانا چاہئیے۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایم کیو ایم کو کہاں سے پیسہ آتا تھا لوگ پیسہ دیتے تھے۔

ایم کیو ایم کا نام کراچی اور اربن سندھ کے علاوہ پورے پاکستان میں بھتہ خوری اور دہشت گردی سے منسلک ہو چکا ہے۔

ایم کیوایم نے اپنے نام کو بھتہ خوری اور دہشت گردی سے کیسے علحیدہ کرنا ہے یہ انہیں خود سوچنا پڑے گا۔

کراچی میں آپریشن ٹھیک لوگوں کے خلاف ہو رہا ہے۔

بہت سے مشہور لوگ یہاں سے باہر بھاگ گئے ہیں۔

اس وقت الطاف حسین کو ہٹانا جھگڑا پیدا کرے گا ایم کیو ایم کو خود ہی اپنا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔

آرمی میں احتساب ہمیشہ ہوتا ہے لیکن پتہ نہیں ہوتا اب میڈیا کی وجہ سے چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔

جنرل پاشا اور جنرل ظہیر دونوں بہت اچھے آفیسرز تھے لیکن میں ان کے دھرنے میں کسی کردار پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔

آرمی میں ہر چیز کا پتہ ہوتا ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی جو بھی کر رہا ہوتا ہے وہ آرمی چیف کی ہدایت کے مطابق کر رہا ہوتا ہے۔

جنرل کیانی کے بھائیوں نے کرپشن کی ہے تو تحقیقات ہونی چاہئییں ان کی بدنامی بہت ہے کہ انہوں نے بہت کرپشن کی ہے۔

میرے خلاف حکومت کے قائم کردہ کیس عدالت میں چل رہے ہیں ۔

میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں ساری طاقت حکومت کے پاس ہے لیکن آکری فتح حق کی ہوتی ہے۔

اگر شہباز شریف اور چوہدری نثار نے میرے متعلق فوج سے کوئی ڈیل کی ہے تو اس کے متعلق انہی سے پوچھا جانا چاہئیے۔

ساری فوج مجھے جانتی ہے اور سب کا میرے بارے میں ایک جیسا ہی خیال ہے۔

میں جنرل راحیل شریف سے رابطہ نہیں کرتا تا کہ حکومت اور ان کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا نہیں ہو۔

فوج میں آرمی چیف کو نکالے کی سازش ہو جاتی ہے میرے خلاف بھی ہوئی تھی پھر فوج نے اس پر جو کیا اس سے سبق سیکھنا چاہئیے۔۔

جنرل راحیل شریف اس وقت ملک کی سب سے مقبول شخصیت ہیں ان کے خلاف کسی کاروائی کو سوچنا بھی بیوقوفی ہو گی۔

افغانستان کی صورت حال اتنی سادہ نہیں ہے بہت پیچیدہ ہے ہمیں اپنے مفاد میں وہاں کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔

ہم آئی ایس آئی کی مدد سے افغانستان میں اپنے مفاد میں اقدامات کرتے ہیں۔

میں نے بھارتی وزیراعظم کو کہا تھا کہ آپ پاکستان آئیں تو سیاچن اور سر کریک پر بات ہونی چاہئیے ورنہ آپ کا دورہ فلیٹ ہو جائے گا۔

بھارتی وزیراعظم پاکستان نہیں آئے میں بھارت گیا تھا تو انہیں بھی آنا چاہئیے تھا۔

مودی کا رویہ پاکستان کے خلاف بہت جارحانہ ہے ہمیں بھی اسی طرح جواب دینا چاہئیے۔

بھارت کے ساتھ دوستی والا اور دفاعی رویہ نہیں چلتا۔

بھارت حافظ سعید اور داود ابراہیم کی بات کرتا رہتا ہے ہمارے خلاف دہشت گردی کرنے والے بھی بھارت میں موجود ہیں۔

ہم کشمیریوں کو مایوس نہیں کر سکتے میں نے کشمیر پر جو پیرا میٹر بنائے تھے ان پر سید علی گیلانی کے علاوہ ساری کشمیری قیادت متفق تھی۔

بھارت سے بیٹھ کر مسائل حل کرنے چاہئییں لیکن اگر وہ بیٹھنے پر تیار نہ ہو تو پھر کیسے ہو سکتے ہیں۔

اکبر بگٹی نے ایف سی پر بمباری کی تھی انہوں نے جوابی حمہ کیا تو وہ بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔

میں نے اکبر بگٹی کونہیں مارا میرے خیال میں انہوں نے خود کشی کی تھی۔

ہمارے دور میں بلوچستان میں امن تھا لیکن بعد میں اسے قائم نہیں رکھا گیا۔

طالبان سے بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہئیے اس وقت طالبان بھی چاہتے ہیں کہ بات چیت چلتی رہے۔

افغانستان میں باون فیصد پختون ہیں ان کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔

مجھے اپنے لئیے کوئی لالچ نہیں ہے جو بھی پاکستان کے لئیے کچھ کرے گا میں اس کی مدد کروں گا۔

جمہوریت یا ڈکٹیٹرشپ دونوں کا تعلق عوام سے ہوتا ہے اس وقت ملک ٹھیک راستے پر نہیں جا رہا ملک میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی۔

میں سندھ کا رہنے والا ہوں خود کو سندھی سمجھتا ہوں لیکن میں پاکستان کی بات کرتا ہوں۔

سب سیاست دان مجھ سے گھر پر ملنے کے لئیے آتے ہیں پیپلز پارٹی والے نہیں آتے۔

پیلز پارٹی تقریباْ ختم ہو چکی ہے پی ٹی آئی اٹھی تھی لیکن اب مشکل میں ہے مسلم لیگ ن صرف پنجاب تک محدود ہے۔

پاکستان میں ایک سیاسی طاقت ہونی چاہئیے جو چاروں صوبوں میں ہو۔

الطاف حسین کے بیان کو کوئی اچھا نہیں کہہ سکتا ہندوستان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔

پاکستان میں سیاست بہت گندی ہے شاید دنیا میں سب سے زیادہ گندی ہے۔

چوہدری افتخار کی پارٹی ایک ٹانگہ ہوگی اور کوئی بیوقوف ہی ان کا ساتھ دے گا۔

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: