RSS Feed

10 August, 2015 18:31

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

samaa.tv/nadeemmaliklive/

10-AUGUST-2015

میرے ساتھ دو ہزار دس سے لے کر دو ہزار چودہ تک جنسی زیادتی کا واقع ہوتا رہا۔ اعجاز احمد جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے ایک بچے کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

ملزمان نے مجھ پر تشدد کیا اور پھر اپنی حویلی میں لے گئے اور نشے کا ٹیکہ لگا کر میرے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اعجاز احمد

میرے ساتھ ملزمان نے دس سے پندرہ بار جنسی زیادتی کی۔ اعجاز احمد

ملزمان کہتے تھے کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہیں گولی مار دیں گے۔ اعجاز احمد

میرے ساتھ ملزمان نے چار پانچ سال پہلے جنسی زیادتی شروع کی اور ایک سال پہلے تک کرتے رہے۔ اللہ دتہ

میں صبح کی نماز پڑھنے کے لئیے گھر سے نکلا کہ ملزمان نے مجھے جنسی زیادتی کے لئیے اغوا کر لیا۔اللہ دتہ

میرے ساتھ دو ہزار دس سے زیادتی شروع کی گئی مجھ سے پیسے بھی لیتے تھے اور نشے کا انجکشن لگا کا زیادتی کی جاتی تھی۔زیادتی کا شکار ہونے والا ایک بچہ

میں ملزمان کو گھر سے پیسے چوری کر کے دیا کرتا تھا وہ اتنی دھمکیاں دیتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ زیادتی کا شکار ہونے والا بچہ

قصور میں بچوں سے زیادتی کا سلسلہ دو ہزار چھ میں شروع ہوا۔ طاہرہ عبداللہ

اب ہم نے ان بچوں کو ٹراما سے نکالنا ہے۔ طاہرہ عبداللہ

قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے معاملہ کو میڈیا میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عبداللہ سنبل

قصور میں جن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ان کی تعداد دو سو تراسی نہیں ہے بلکہ اس سے بہت کم ہے۔ عبداللہ سنبل

قصور میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد تقریباْ ساٹھ کے قریب ہے۔ عبداللہ سنبل

قصور میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کی تیس کے قریب وڈیوز موجود ہیں۔ عبداللہ سنبل

جیسے ہی پولیس کو قصور کے واقع کا علم ہوا اس نے اپنی کاروائی کی ہے۔ عبداللہ سنبل

میں قصور میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں اور ان کے والدین سے ملا ہوں ان کی تعداد ساٹھ سے بہت زیادہ ہے۔ میاں محمود الرشید

جنسی زیادتی کو نشانہ بننے والے بچوں کے والدین کو پولیس کہہ رہی ہے کہ کیس ثابت نہیں ہو گا آپ ملزمان سے صلح کر لیں۔ میاں محمود الرشید

مجھے میڈیا کے زریعے قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقع کا علم ہوا مجھے پہلے اس کا علم نہیں تھا۔ ملک احمد سعید

میں کمشنر لاہور کے بیان پر حیران ہوں کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے ایک بچے کی ننگی وڈیو بھی بہت زیادہ ہے۔ طاہرہ عبداللہ

علاقعے کے ایس ایچ او کی مرضی کے بغیر بچوں سے جنسی زیادتی نہیں ہو سکتی واقعے کا پولیس کو علم تھا۔طاہرہ عبداللہ

بچوں سے جنسی زیادتی کی وڈیوز بنا کر اسی گاؤں میں بیچی جا رہی تھیں اور والدین کو بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ طاہرہ عبداللہ

ہم صبح کو مزدوری کرنے چلے جاتے ہیں اور رات کو واپس آتے ہیں ہمیں بچوں سے جنسی زیادتی ہونے کا علم نہیں تھا۔ والد ایک مظلوم بچہ

ہم ملزموں کو جنسی زیادتی سے منع کرتے تھے لیکن وہ طاقتور ہیں اور ہم کمزور وہ نہیں مانے۔ والدہ ایک مظلوم بچہ

ہم نے بچوں سے زیادتی کی شکایت کی تو ملزمان نے ہمارے گھر کو آگ لگا دی۔ والدہ ایک مظلوم بچہ

ہم پولیس کے پاس گئے تو انہوں نے ہماری مدد نہیں کی۔ والدہ ایک مظلوم بچہ

بچوں کے ساتھ یحیی کی حویلی میں لے جا کر نشے کا ٹیکہ لگا کر جنسی زیادتی کی جاتی تھی۔ بہن ایک مظلوم بچہ

ایک نوجوان مبین اور کچھ اور نوجوانوں نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ اٹھایا تو ان کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ کاٹ دیا گیا۔ میاں محمود الرشید

جو لوگ بھی قصور میں بچوں کے سات جنسی زیادتی کے زمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ ملک احمد سعید

قصور کے واقع کے مین ملزم یحیی کی ضمانت منسوخ ہو چکی ہے اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ملک احمد سعید

وزیراعلی پنجاب کہاں ہیں قصور کا واقع سامنے آئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے وہ وہاں کیوں نہیں گئے۔ میاں محمود الرشید

پولیس نے علاقعے کے ہر گاؤں کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور لوگوں کو قصور کے واقع پر احتجاج بھی نہیں کرنے دیا جا رہا۔ میاں محمود الرشید

ہمیں قصور کے واقع میں نمبر گیم میں نہیں پڑنا چاہئیے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد کتنی تھی۔ طاہرہ عبداللہ

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: