RSS Feed

17 September, 2015 17:38

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

17-SEPTEMBER-2015

جب میں نے حکومت لی تو میں راحیل شریف کی طرح مقبول نہیں تھا لیکن ایک چیز مشرکہ تھی کہ حکومت اس وقت بھی غیر مقبول تھی۔ آج کے واحد مہمان پرویز مشرف کی ندیم ملک الئیو میں گفتگو

آج دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے اور اس سے راحیل شریف بہت مقبول ہو گئے ہیں اور مجھے بہت خوشی ہے۔

کوئی ایک آدمی تو ہو جو پورے پاکستان میں مقبول ہو اور لوگ کہیں کہ اچھا کام کر رہا ہے اور واقعی راحیل شریف اچھا کام کر رہے ہیں۔

حکومت پر قبضہ کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوتا آرمی چیف کے دماغ میں کچھ ہوتا ہے تو یہ ہوتا ہے۔

میرے خیال میں جیوڈیشری کو آگے لگنا چاہئیے ااور ملٹری کو جیوڈیشری کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئیے۔

ہمیں سیاسی نظام میں آئین میں وسول سروس اور صوبوں کے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے کہ جس کے پیچھے فوج ہو اور جیوڈیشری ان کی توثیق کرے۔

میں نے اپنے دور حکومت کے آخر میں اصلاحات لانے کی کوشش کی میرا خیال تھا کہ میری پارٹی جیت جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ہم نے پہلے تین سالوں میں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئیے ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیا تھا۔

ہم نے پولیس آرڈیننس میں جو اٹھارہ سو اکسٹھ کا تھا میں تبدیلی کی لیکن موجودہ حکومت اسے پھر واپس اٹھارہ سو اکسٹھ میں لے گئی ہے۔

پارلیمنٹ بل پاس کرتی ہے اس نے اٹھارویں ترمیم پاس کی جو پاکستان مخالف ہے اور پاکستان سے دشمنی ہے۔

میری خواہش ہے کہ راحیل شریف اگلے سال ریٹائرنہ ہوں بلکہ جاری رکھیں پاکستان یہ افورڈ نہیں کر سکتا۔

اگر سسٹم میں تبدیلی نہیں آئی تو سب زیرو ہو جائے گا۔

سندھ میں جو ہو رہا ہے بہت اچھا ہے میرا کوئی دوست نہیں میرا دوست پاکستان ہے۔

میرا بھائی بھی اگر غلط کام کرے گا تو میں اس کو سپورٹ نہیں کروں گا۔

ہم صرف ایم کیو ایم کی بات کرتے ہیں دوسرے کیا فرشتے آئے ہوئے ہیں۔

کراچی میں مہاجر اور پٹھان لڑ رہے تھے مہاجر کے پیچھے ایم کیو ایم اور پٹھان کے پیچھے اے این پی تھی۔

پیپلز امن کمیٹی اور مہاجر کی لڑائی شروع ہوئی تو امن کمیٹی کے پیچھے پیپلز پارٹی اور مہاجر کے پیچھے ایم کیو ایم تھی۔

جب میں کالج میں تھا تو جو لڑکا جیب میں پسٹل یا چاقو رکھتا تھا وہ جمیعت کا ہوتا تھا۔

اس وقت تاثر یہ بنا ہوا ہے کہ ادارے ایک کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ایسا نہیں ہے وہ سب کے پیچھے ہیں ڈاکٹر عاصم کا تعلق ایم کیو ایم سے نہیں ہے۔

زرداری کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے سال جیل میں گزارے وہ تو انہوں نے عباسی شہید ہسپتال میں گزارے عیاشی کرتے رہے۔

جس پارٹی نے جو کیا ہو گا اس کا اسے جواب دینا ہو گا۔

عمران فاروق کا قتل اور منی لانڈرنگ کیس اب خاتمے کے قریب ہیں۔

ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقعوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے کوئی دوسرے نمبر پر بھی نہیں ہے۔

جب میں حکومت میں آیا تو کراچی میں نو بجے کے بعد ایک گاڑی بھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔

میں نے ایم کیو ایم کو ساتھ ملایا اور ان سے کراچی کے لئیے کام لیا تا کہ یہ کنٹرول میں رہیں۔

اس وقت پورے ملک میں ایم کیو ایم کے متعلق تاثر یہ ہے کہ یہ ایک دہشت گرد اور بھتہ خور جماعت ہے۔

الطاف حسین جیسے مظبوط لیڈر ہوں تو پھر سیاسی جماعتوں میں نئی لیڈر شپ پیدا نہیں ہوتی۔

اگر ملک میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو پھر نواز شریف کا مستقبل بہت روشن ہے۔

ہم نے اگر کوئی سیاسی کردار ادا کرنا ہے تو پھر ہمیں ضم ہونا پڑے گا۔

راحیل شریف ہو سکتا ہے کہ کچھ حکومتی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوں لیکن وہ حکومت نہیں کر رہے۔

میں علاج کے لئیے ملک سے باہر جانا چاہتا ہوں میری ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے۔

میں باہر سے علاج کروا کر لازمی طور پر ملک میں واپس آؤں گا۔

پاکستان کے مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہمیں بھارت کے ساتھ ڈپلومیسی دکھانی چاہئیے مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔

مودی کا تعلق مسلمان مخالف تنظیم آر ایس ایس سے ہے اور اس نے ابھی آر ایس ایس کو اپنی ابھی تک کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ہے۔

بھارت کے اگر تیس چالیس جہاز پاکستان کی طرف آئے تو انشا اللہ واپس نہیں جایں گے ادھر ہی رہ جایں گے۔

واجپائی بہت متوازن شخصیت تھے ان کے دور میں دونوں ملکوں کے حالات بہت بہتر ہو گئے تھے من موہن صاحب بھی اچھے آدمی تھے۔

میں نے واجپائی سے ملنے سے انکار نہیں کیا تھا میں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں واہگہ نہیں آؤں گا۔

واہگہ اس لئیے نہیں گیا تھا کہ وہاں ہزاروں لوگ ہوتے ہیں دھکم پیل کرتے ہیں انہیں تمیز تو ہوتی نہیں ہے۔

میں نے وزیراعظم کو کہا تھا کہ میں واہگہ نہیں آؤں گا اور انہوں نے اتفاق کیا تھا۔

واجپائی نے گورنر ہاؤس آنا تھا میں نے کہا میں وہاں آؤں گا اور میں نے سلیوٹ بھی کیا تھا۔

میں مودی کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر وہ آئے تو میں اسے سلیوٹ کروں گا ایک پرٹوکول ہے۔

پاکستان اس وقت چین کے علاوہ دنیا میں تنہا ہو چکا ہے اور بھارت ہم پر دباؤ ڈٖال رہا ہے۔

بھارت افغانستان کے راستے ہمیں تنگ کر رہا ہے ہمیں بھی پراکسی شروع کر دینی چاہئیے۔

بھارت میں بھی کافی کمزوریاں ہیں ہم بھی انہیں استعمال کر سکتے ہیں ماضی میں ہم کرتے بھی رہے ہیں۔

بھارت میں ہم سے زیادہ مسلمان ہیں اور وہ اندر سے ابل رہے ہیں بھارت ہم سے پنگے نہ لے۔

دہشت گردی کے خلاف ہمیں ہولسٹک حکمت عملی اپنانی ہو گی۔

فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف ہم بہت اچھی طرح سے کاروائی کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں علحیدگی کی تحریک چل رہی ہے اور ان لیڈر ملک سے باہر جا چکے ہیں۔

فرقہ وارانہ دہشت گردی کا سارا مسئلہ پنجب میں ہے۔

نواز شریف کو چاہئیے کہ کرپشن کو کنٹرول کریں اور اپنے پسندیدہ لوگوں کو نہ لگایں۔

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: