RSS Feed

14 October, 2015 17:12

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

14-OCTOBER-2015

پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ووٹر ناپید ہو گیا ہے اس میں ہماری ناکامی ہے ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہئیے۔ آج کے واحد مہمان اعتزاز احسن کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

میں نے جلسے میں سب کے سامنے کہا تھا کہ بلاول کو پارٹی کی قیادت کرنی چاہئیے اور پرانے لیڈروں کو پیچھے ہٹ جانا چاہئیے۔

لاہور اور اوکاڑہ کے الیکشن میں ہم بری طرح پسپا ہوئے ہیں۔

ہم نے حکومت چلانے پر توجہ دی پارٹی پر توجہ نہیں دی ہمارے وزرا کارکن سے کٹے رہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ بلاول بھٹو کو ایک نئی ٹیم کے ساتھ آنا چاہئیے میرا ان کو بھی یہی مشورہ رہا ہے۔

میرا بلاول کو مشورہ ہے کہ انکلز سے جان چھڑا لے۔

پنجاب کی قیادت تبدیل کرنے اور وزیراعلی سندھ کو تبدیل کرنے سے آگے بھی کچھ اقدامات اٹھائے جایں گے۔

فی الحال لگتا یہ ہے کہ زرداری صاحب دبئی میں ہی بیٹھ کر سیاست کریں گے۔

مسلم لیگ ن کو اچھی حکمرانی نہیں بلکہ اس کا اچھا امیج بنانے میں ہم سے زیادہ مہارت حاصل ہے۔

مسلم لیگ ن والے میڈیا کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اور جیوڈیشل اسٹیبلشمنٹ کو ہم سے بہت بہتر ہینڈل کرتے ہیں۔

روایتی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن نیشنلسٹ اور محب وطن ہے اور ہمیں اتنا محب وطن نہیں سمجھا جاتا۔

پیپلز پارٹی کا یہ امیج اس وقت بنا جب اس میں سوشلسٹ موجود تھے اور انہیں بھارت اور روس نواز سمجھا جاتا تھا۔

ہمیں اب بھی لیفٹ ونگ پارٹی سمجھا جاتا ہے حالانکہ رائٹ میں جا کر ہمارا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔

اب ہم لیفٹ ونگ پارٹی نہیں ہیں بلکہ ہم تو رائٹ سے زیادہ رائٹ چلے گئے ہیں۔

میرا نہیں خیال کہ صدر اور آرمی چیف کو اوسامہ کے متعلق پتہ تھا۔

میں احمد مختار کے بیان پر یقین نہیں کرتا کیونکہ ہماے ملک میں وزیر دفاع کے پاس آج کے وزیر دفاع کو دیکھ لیں اختیار نہیں ہوتا ۔

احمد مختار ان سے پہلے اور آج کے وزیر دفاع کو دفاعی امور سے کوئی آگاہی نہیں ہے۔

آرمی سول وزرا کو اعتماد میں لیتی ہی نہیں ہے۔

نواز شریف نے انیس سو چورانوے میں صفر انیس سو پچانوے میں چار سو ستتر روپے اور چھیانوے میں پھر صفر ٹیکس ادا کیا۔

اگر وزیراعظم پر ٹیکس نہیں لگتا تھا تو پھر ان کے اتنے اثاثے کیسے بن گئے۔

اگر نواز شریف کے اتنے اثاثے ہیں تو پھر انکم چھپائی گئی ہے۔

انکم ٹیکس ریٹرن میں بے نامی اثاثے بھی دکھانے پڑتے ہیں۔

شریف برادران اسٹیبلشمنٹ کے بلیو آئیڈ بیبیز ہیں ان کی طرف سی بی آر یا نیب کی نظر نہیں جاتی۔

شریف برادران کے لئیے قوانین اور اصول ہی الگ ہوتے ہیں ان کو جیلوں سے نکال کر باہر بھیج دیا جاتا ہے۔

جس طرح کی آج کرپشن ہو رہی ہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تو اب تک کئی وزرا جیل میں ہوتے۔

پرویز رشید سے وزیراعظم کے ٹیکس کا سوال کیا جائے تو وہ جواب دینے کی بجائے حملہ کر دیتے ہیں۔

وزیراعظم نے اس سال بیالیس لاکھ ٹیکس دیا ہے میرا اس سال کا ٹیکس ان سے چار گنا زیادہ ہے۔

میں اللہ کے فضل سے بہت امیر آدمی ہوں اس نے مجھے بہت زیادہ نوازا ہے۔

ڈاکٹر عاصم پر عجیب عجیب قسم کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ پی ایس او سے دو ارب روپے روزانہ رشوت لیتے تھے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔

مجھے ڈاکٹر عاصم کے اقبالی بیان کی حیت درست معلوم نہیں ہوتی۔

پیپکو کے چیرمین منور بصیر نے نواز شریف اور افتخار چوہدری کو خط لکھا تھا کہ کس طرح نندی پور پراجیکٹ تئیس ارب سے چالیس اور چالیس سے ستاون ارب تک گیا۔

نندی پور پراجیکٹ کے لئیے ستاون ارب روپے کا بجٹ دو ہزار تیرہ میں پاس گیا اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت آ چکی تھی۔

نندی پور پراجیکٹ کو فاسٹ ٹریک کرنے کے چکر میں بہت زیادہ پیسے کا ضیاع ہوا ہے۔

میٹرو بس بھی فاسٹ ٹریک پر بنی ہے بھائی ہونے کے ناطے دونوں نواز اور شہباز شریف کے مفادات بھی اکٹھے ہیں۔

ایل این جی پراسس نہیں بھی ہو گی تو بھی حکومت دو لاکھ بہتر ہزار ڈالر روزانہ ادا کرے گی۔

ایل این جی ایک بہت بڑا سکینڈل ہے۔

وزیراعظم غیر ملکی دورے پر صرف وزیراعلی پنجاب کو ہی لے کر جاتے ہیں وزیراعلی کے پی کے سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے

غیر ملکی دوروں اور پاکستان میں بھی کلیدی میٹنگ میں چیف منسٹر پنجاب ہی بیٹھتے ہیں۔۔

خبر نہیں کہ پاکستان میں وہ دن کب آئے گا کہ یہاں بلا امتیاز احتساب ہو گا۔

خورشید محمود قصوری کی کتاب کی لانچنگ پر جو کچھ کلکرنی کے ساتھ بھارت میں ہوا ہے اس کی تصویر کروڑوں الفاظ کہنے سے بہتر ہے۔

میں کلکرنی کی تعریف کرتا ہوں کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے اس کے باوجود کتاب کی تقریب رونمائی میں حصہ لیا۔

عمران خان نے خود کو این اے ایک بائیس ایک سو سنتالیس کی وجہ سے بچا لیا ہے۔

اوکاڑہ کے ضمنی انتخاب میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو پارٹیاں تبدیل کرنے کی وجہ سے لوگوں نے مسترد کر دیا۔

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: