RSS Feed

9 November, 2015 16:42

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

09-NOVEMBER-2015

سال کے پہلے کوارٹر میں ریونیو کلیکشن کا ٹارگٹ چھ سو چالیس ارب روپے کا تھا لیکن وہ چھ سو ارب ہوا ہے۔آج کے واحد مہمان اسحق ڈار کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

چالیس ارب کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئیے چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔

چالیس ارب کا ٹیکس لگژری چیزوں پر لگے گا کسی عام آدمی کو فرق نہیں پڑے گا۔

آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کی وجہ پیسے نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہے۔

ہم نے آئی ایم ایف کا پچھلا قرضہ واپس کر دیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ روپے کی قیمت مارکیٹ ویلیو کے حساب سے انڈر ویلیوڈ ہے۔

پاکستان کو اس ماہ ورلڈ بینک سے دو فیصد سود پر بہت سستا قرضہ مل جائے گا۔

پاکستان کا جتنا قرضہ بڑھنا تھا ہم نے اسے آدھا کر دیا ہے۔

میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سیاست ضرور کریں لیکن معیشت پر سیاست نہ کریں۔

قومی ایجنڈے پر سب کو مل کر کام کرنا چاہئیے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

معاشی استحکام حاصل کرنے کے لئیے سیاسی استحکام ہونا بہت ضروری ہے۔

الطاف حسین کی تقاریر سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

ملکی اداروں کو نشانہ بنانا درست بات نہیں ہے۔

کراچی میں رینجرز کے آپریشن کی وجہ سے جرائم میں پچاسی فیصد بہتری آئی ہے۔

کراچی آپریشن اور مجرمانہ سرگرمیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

ایم کیو ایم کہتی تھی کہ ماورائے عدالت کام ہو رہے ہیں لیکن ادارے کہتے ہیں کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کر رہے۔

وزیردفاع اور وزیر داخلہ آپس میں بات نہیں کرتے لیکن کام ہو رہا ہے۔

وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران بہت عرصے کے بعد کشمیر ایجنڈے کا حصہ بنا۔

جماعت دعوی پر پابندی کا مشرکہ بیان کاحصہ بننا یو این او کے پروگرام کے تحت ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں ہمارے نیوکئیر پروگرام کا زکر تک نہیں ہے۔

تاجروں پر صفر اعشاریہ چھ فیصد ٹیکس لگایا تھا لیکن صفر اعشاریہ تین فیصد لے رہے ہیں۔

ہم نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لے کر آنا ہے۔

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: