RSS Feed

12 January, 2016 16:26

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

12-JANUARY-2016

میں اکبر بگٹی کیس میں کسی سے معافی نہیں مانگوں گا میں کس بات کی معافی مانگوں۔ آج کے واحد مہمان جنرل پرویز مشرف کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

آج کل جو ہلاکتیں ہو رہی ہیں کیا اس کی زمہ داری صدر پر ڈالی جا سکتی ہے۔

اکبر بگٹی پہاڑوں کی طرف چلے گئے تھے وہاں کوئی راکٹ لگا یا دھماکہ ہوا۔

پانچ فوجی افسر اکبر بگٹی سے ملاقات کرنے کے لئیے گئے کہ دھماکہ ہو گیا ہو سکتا ہے کہ خود کش دھماکہ ہو۔

لال مسجد کے خلاف آپریشن ٹھیک ہوا اور ٹھیک وقت پر ہوا ہمیں اس کو سراہنا چاہئیے۔

لال مسجد کے خلاف آپریشن میں ہمارے تیرہ جوان شہید ہوئے وہ ہمارے ہیرو ہیں ہم ان کی تعریف نہیں کرتے۔

لال مسجد کے خلا ف آپریشن ایس ایس جی نے کیا چوہدری شجاعت اور دوسرے لوگوں نے ان کو بہت سمجھایا لیکن وہ لڑے اور مارے گئے۔

ہم نے پوری کوشش کی کہ لال مسجد کے خلاف آپریشن نہ کریں لیکن انہوں نے دو پولیس والوں کو اور پھر چین کے شہریوں کا مار دیا۔

اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کے بارے میں مولانا عبدالعزیز کا بیان بہت ہی منفی تھا۔

میں میڈیکل پرابلم کی وجہ سے ملک سے باہر جانا چاہتا ہوں لیکن واپس آؤں گا۔

فوج کو میری حمایت کرنی چاہئیے میں سابقہ آرمی چیف ہوں اور فوج کی جتنی ترقی میرے دور میں ہوئی۸ پہلے کبھی نہیں ہوئی۔

غوری میزائل کے پہلے دو تجربات ناکام ہو گئے تھے میں نے انہیں ٹھیک کروا کے دوبارہ کامیاب تجربات کروائے۔

میں جنرل راحیل شریف سے رابطہ نہیں رکھتا وہ اور حکومت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں میں ان کی مشکل میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔

پاکستان کی صورت حال اس وقت ٹھیک نہیں ہے لیکن میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔

لوگ فوج سے توقعات قائم کر لیتے ہیں کیونکہ ہماری سول حکومت میں کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جنرل راحیل شریف کو ریٹائر نہیں ہونا چاہئیے بلکہ اپنی سروس کو جاری رکھنا چاہئیے۔

چیف آف آرمی سٹاف کے لئیے تین سال کا عرصہ بہت کم ہے یہ چار سال ہونا چاہئیے۔

پنجاب میں فرقہ پسند گروپوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہئیے لیکن اصل آپریشن کرپشن کے خلاف ہونا چاہئیے۔

پاکستان میں اس وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان فیصلہ سازی میں اتفاق رائے اور ربط نہیں ہے۔

نواز اور مودی کا ملنا اور کھسر پھسر کرنا اچھی بات ہے لیکن ہمارے بھارت کے ساتھ کچھ اشوز ہیں ان پر بات ہونی چاہئیے۔

کشمیر ایک متنازع علاقعہ ہے وہاں لڑنے والے دہشت گرد نہیں ہیں مجاہدین ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پٹھان کوٹ جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

بھارت کی دھمیکوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم انہیں وہاں ماریں گے جہاں سے انہیں بہت تکلیف پہنچے گی۔

میں نے واجپائی اور من موہن سنگھ کو کہا تھا کہ اگر مسائل حل کرنے ہیں تو پھر خلوص دکھاناہو گا اور لچک پیدا کرنی ہو گی۔

مودی کی کابینہ پاکستان کے خلاف بہت سخت بیانات دے رہی ہے کیا یہ خلوص ہے۔

دو ہزار سات میں من موہن سنگھ پاکستان آ جاتے جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا تو سر کریک اور سیاچن کے مسائل حل ہو چکے ہوتے۔

سرکریک اور سیاچن پر معاہدہ ہو گیا تھا کہ دونوں ملکوں کی فوجیں ایک خاص لائین تک پیچھے ہٹ جایں گی۔

میری ملک میں مقبولیت کم ہو جانے کی وجہ سے من موہن پاکستان نہیں آئے تھے۔

مودی کے دور حکومت میں بھارت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہو سکتے وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو بلڈوز کر سکتا ہے۔

بھارت افغانستان اس کی حکومت اور ایجنسیوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔

میں خوش ہوں کہ اب افغان مسئلے پر افغانستان، چین پاکستان اور امریکہ بات چیت کر رہے ہیں بھارت اس میں شامل نہیں ہے۔

بھارت کا افغانستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس کی سرحدیں بھی اس کے ساتھ نہیں ملتیں۔

میں نے امریکہ کو کہا تھا کہ بھارت کو افغانستان کے مسئلے میں نہ گھسیٹیں ان کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

دنیا میں پاکستان کے بارے میں تاثر بہت برا جبکہ بھارت کے بارے میں بہت اچھا ہے۔

ہمارے ہاں اقلیتوں کے خلاف اکا دکا واقعات ہوتے ہیں جبکہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جتا ہے پھر بھی دنیا اسے سب سے بڑی جمہوریت مانتی ہے۔

ہم خود کو عالمی طور پر بہتر انداز میں پیش نہیں کرتے ہیں۔

نوازشریف کو اس وقت اپوزیشن سے کسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے لیکن لوگ بد حال ہو رہے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ایک تیسری سیاسی قوت ہونی چاہئیے۔

لوگوں کو کھینچنے کے لئیے ایک شخصیت کی اور ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر موجودہ سیاسی صورت حال قائم رہی تو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بھی پنجاب سے مسلم لیگ ن اور سندھ سے پیپلز پارٹی ہی جیتیں گے۔

دہشت گردی کی صرت حال بہتر ہوئی ہے لیکن معاشی صورت حال بہت خراب ہے۔

آرمی کا سیاست میں یہ کردار ہونا چاہئیے کہ وہ دیکھے کہ حکومت اپنا کام ٹھیک طریقے سے کر رہی ہے یا نہیں۔

آئین کے مطابق حکومتی معاملات میں فوج کے کردار کی کوئی گنجائش نہیں ہے جنرل راحیل اس بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔

میری خواہش ہے کہ حکومت اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرے ورنہ فوج تو پھر اپنی سٹڈی کرتی ہے۔

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: