RSS Feed

12 February, 2016 06:53

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

11-FEBRUARY-2016

ہماری لیڈر شپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ جنرل اعجاز اعوان کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

اگر لیڈر شپ کی ترجیح ہو کہ دہشت گردی کو ملک سے ختم کرنا ہے تو یہ کیا جا سکتا ہے۔ جنرل اعجاز اعوان

دہشت گردی کے خلاف جنگ فوج کی سولو فلائٹ ہے اس میں اسے جیوڈیشری سے دیگر آپریشنز کی طرح مدد نہیں ملی اور سول لیڈر شپ میں کنفیوژن ہے۔ جنرل اعجاز اعوان

سول لیڈر شپ بجائے پولیس کو اور امن امن کو ٹھیک کرنے کے بڑے بڑے شو پیس پراجیکٹس پر پیسہ لگا رہی ہے۔ جنرل اعجاز اعوان

پہلے دنیا نے مسلمانوں کو روس کے خلاف استعمال کیا اس میں سٹیٹ کی غلط پالیسیاں شامل تھیں۔ طلال چوہدری

ہمیں دہشت گردی کے خلاف دیگر وجوہات ختم کرنے کے علاوہ غربت کو بھی ختم کرنا ہو گا۔طلال چوہدری

بجٹ کے سترہ فیصد میں سڑکیں تعلیم، صحت اور دیگر منصوبے آ جاتے ہیں باقی قرضہ ادا کرنے اور ڈیفنس پر خرچ ہو جاتا ہے۔ طلال چوہدری

غربت ختم کرنے کے لئیے ملک میں صنعتی منصوبے لگانے ہوں گے۔طلال چوہدری

تعلیم کا پیسہ نکال کر کہیں اور نہیں لگایا جا رہا پنجاب میں بجٹ کا چوبیس پچیس فیصد تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے۔ طلال چوہدری

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن امان ہے مایں بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے ڈرتی ہیں کہ اس کا بچہ واپس آئے گا یا نہیں۔علی محمد خان

میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے مسئلے پر سیاست نہ کریں۔ علی محمد خان

ہم دکہتے ہیں کہ مدرسوں سے دہشت گرد نکل رہے ہیں جبکہ بہت سے بڑے بڑے دہشت گردوں کا مدرسے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔علی محمد خان

دیکھنا ہو گا کہ لمز اور دوسرے اعلی تعلیمی اداروں سے نوجوان دہشت گرد کیوں پیدا ہو رہے ہیں۔علی محمد خان

جنرل صاحب کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی لیڈر شپ نے اپنی زمہ داری پوری نہیں کی ہے۔ مولا بخش چانڈیو

جنرل صاحب کو یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی مصیبت جنرل ضیاالحق کے دور میں آئی۔مولا بخش چانڈیو

پاکستان کی کچھ مزہبی جماعتیں آج بھی دہشت گردوں کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہیں۔ مولا بخش چانڈیو

ایک سیاسی جماعت نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے مرنے والے فوجی شہید نہیں ہیں لیکن طالبان شہید ہیں۔ مولا بخش چانڈیو

پی ٹی آئی نے طالبان کا دفتر کھولنے اور مسلم لیگ ن نے اچھے اور برے طالبان کی بات کی تھی۔ مولا بخش چانڈیو

جب میں کہتا ہوں کہ لیڈرشپ نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زمہ داری پوری نہیں کی تو اس میں سیاسی اور فوجی دونوں لیڈرشپ شامل ہیں۔ جنرل اعجاز اعوان

سیاست دان کوئی موم کی ناک نہیں ہیں کہ فوجی انہیں جدھر چاہے موڑ لیتے ہیں۔ جنرل اعجاز اعوان

اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نواز شریف لیڈ کر رہے ہیں۔ طلال چوہدری

پرویز خٹک اور شہباز شریف نے طالبان سے مزاکرات کی بات اس وقت کی تھی جب پارلیمنٹ بھی اس کے حق میں تھی۔ علی محمد خان

بینظیر بھٹو شہید کی حکومت میں نصیر اللہ بابر نے طالبان بنائے تھے اور کہا تھا کہ دیز آر آور بوائز۔ علی محمد خان

اب ہمیں ماضی کو کریدنے کی بجائے آگے بڑھنا چاہئیے۔ علی محمد خان

میں یہ بات علی الاعلان کہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سارہ سہرہ صرف پاک فوج کو جاتا ہے۔ مولا بخش چانڈیو

غریب کے بچے اس لئیے مدرسے میں جاتے ہیں کہ انہیں وہاں مفت تعلیم کھانا اور رہائش ملتی ہے حکومت کو اس کا متبادل ففراہم کرنے کی ضرورت ہے۔جنرل اعجاز اعوان

حکومت کو بچوں کے لئیے ہنر مندی سکھانے والے اداروں کا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل اعجاز اعوان

حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ بچے سارا دن مولوی کے سپرد نہ رہیں بلکہ وہ پڑھ کر رات کو گھر واپس آیں۔ جنرل اعجاز اعوان

اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ ڈنڈا لے کر نواز شریف کے پیچھے پڑ جائے اور ان سے نیشنل ایکشن پلان کی بیس نقاط پرعمل کروائے۔ علی محمد خان

آج دہشت گردی کے خلاف اچھے نتائج اس لئیے نکلے ہیں کیونکہ سیاسی قیادت فوج کے ساتھ ہے اکیلی فوج تھی تو ایسے نتائج نہیں حاصل ہو سکے تھے۔ مولا بخش چانڈیو

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: