RSS Feed

1 March, 2016 16:15

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

01-MARCH-2016

پٹھانکوٹ حملے کے واقع پر ایک بہت ہی اعلی سطح کی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے۔ رانا ثنا اللہ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ پٹھانکوٹ حملے کے واقع پر صرف وزارت خارجہ بیان دیا کرے گی۔ رانا ثنا اللہ

پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقاتی ٹیم میں پنجاب پولیس کا کوئی کردار نہیں ہے وہ صرف ضرورت پڑنے پر تحقیقاتی ٹیم کی مدد کرے گی۔ رانا ثنا اللہ

نان اسٹیٹ ایکٹرز کا اگر اسٹیٹ کی مدد حاصل ہو تو پھر وہ نان اسٹیٹ نہیں رہتے یہ لوگ پوری دنیا میں ہیں۔رانا ثنا اللہ

دہشت گردوں کے شناختی کارڈ ڈرائیونگ لائسنس اور فون سمز منسوخ کرنا ایک حد تک تو موثر ہو سکتا ہے مکمل طور پر نہیں ہو سکتا۔بیرسٹر سیف

جب تک دہشت گردوں کے خلاف جامع اقدامات نہیں کئیے جایں گے کچھ نہیں ہو گا۔ بیرسٹر سیف

دہشت گردوں کی سوچ کے خلاف کاؤنٹر نیریٹیو دینے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر سیف

ہر ہفتے مولوی صاحب لوگوں کو جمعہ کے خطبعہ میں سمجھاتے ہیں ان سے اور میڈیا کے اس مسئلے کو اٹھانے سے بہت فرق پر سکتا ہے۔رانا ثنا اللہ

مولانا فضل الرحمان نے خواتین کے حقوق کے بل پر جو پوزیشن لی تھی اب وہ اس کو حکومت گرانے جیسے بیانات دے کر مطبوط کر رہے ہیں۔رانا ثنا اللہ

خواتین کے حقوق کا بل ایک اچھا اقدام ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس بل کا غلط استعمال بھی ہو گا۔ قمر زمان کائرہ

مولانا فضل الرحمان کا حکومت گرانے کا بیان درست ہے مزہبی طبقے نے ماضی میں بھی نظام مصطفی کے نام پر یہی کیا تھا۔ کائرہ

خواتین پر تشدد کو روکنا چاہئیے لیکن دیکھنا ہو گا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئیے۔ حافظ حمد اللہ

مشرف دور میں جب خواتین کے حقوق کا بل پیش کیا گیا تھا تو مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت کی تھی۔ حافظ حمد اللہ

اسلام کہتا ہے کہ اگر میاں بیوی مین لڑائی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کرا دی جائے اس بل کے مطابق اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ حافظ حمد اللہ

جو خاوند جیل جائے گا وہ واپس آ کر بیوی کو طلاق دے دے گا اس سے خاندان تباہ ہو جائے گا۔ حافظ حمد اللہ

میں حقوق خواتین بل کی اس لئیے حمایت کرتا ہوں کیونکہ پاکستان میں خواتین اور بچوں پر بہت تشدد کیا جاتا ہے۔ بیرسٹر سیف

یہ قانون معمولی جھگڑوں کے لئیے نہیں ہے بلکہ جو لوگ عورتوں پر تیزاب پھینک دیتے ہیں یا ہاتھ پاؤں توڑ دیتے ہیں ان کے لئیے ہے۔ بیرسٹر سیف

حقوق خواتین کا بل اسمبلی نے پاس کیا ہے اگر اس میں کوئی خرابی ہے تو مولانا فضل الرحمان اس میں بہتری کی تجاویز پیش کریں ہم مانیں گے۔ رانا ثنا اللہ

اس قانون پر صرف اس صورت میں عمل ہو گا اگر عورت خود اپنے پر تشدد کئیے جانے کی شکایت کرے گی۔ رانا ثنا اللہ

معاشرے میں آہستہ آہستہ تبدیلی آتی ہے لیکن مزہبی طبقہ تبدیلی کو قبول نہیں کرتا وہ بچوں کو بھی تشدد سے پڑھاتا ہے۔کائرہ

بہتر ہوتا کہ حکومت پنجاب حقوق خواتین کا بل پاس کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل یا پنجاب علما کونسل سے مشورہ کر لیتی۔ حافظ حمد اللہ

مسلم لیگ ن کے ارکلان کی اکثریت حقوق خواتین بل کی مخالف ہے اور وہ بل کے حق میں ووٹ دینے کے لئیے اسمبلی میں نہیں آئے۔ حافظ حمد اللہ

میں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ میاں نواز شریف کے گھر میں بھی حقوق خواتین بل کی مخالفت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ حافظ حمد اللہ

ہمارے مدرسوں میں ایسا نہیں ہوتا لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا تصور موجود ہے۔ حافظ حمد اللہ

حقوق خواتین کا بل پاس کرنے کے وقت ارکان کی مقررہ تعداد اسمبلی میں موجود تھی۔رانا ثنا اللہ

میاں نواز شریف کے گھر میں کوئی بھی حقوق خواتین بل کا مخالف موجود نہیں ہے۔رانا ثنا اللہ

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: