RSS Feed

27 April, 2016 03:58

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

26-APRIL-2016

امید تھی کہ حکومت ٹی او آر پر اپوزیشن کو خط لکھے گی اور اتفاق رائے سے چلے گی لیکن اس نے خود ہی ٹی او آر طے کر لئیے ہیں۔ اسد عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

دو مئی کو اپوزیشن جماعتوں کی ایک میٹنگ ہو گی جس میں ون پوائنٹ ایجندا کہ پاناما لیکس کی انکوائری ہونی چاہئیے اتفاق رائے ہو جائے گا۔ اسد عمر

اپوزیشن کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر متفق ہونے کے بعد حکومت سے بھی بات چیت کرنی پڑے گی تا کہ انصاف کی تقاضے پورے ہوں۔ اسد عمر

پاناما لیکس میں دو سو پاکستانیوں کے نام ہیں اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا کہ یہ خبر غلط ہے۔ سلمان اکرم راجہ

جن لوگوں کے پاناما پیپرز میں نام ہیں انہیں خود بتانا چاہئیے کہ پیسہ ملک سے باہر کیسے گیا تھا۔ سلمان اکرم راجہ

جن لوگوں کے باہر اثاثے ہیں کیا وہ سیاسی اور اخلاقی طور پر ایسا کر سکتے ہیں کہ نہ بتایں کہ کہ انہوں نے یہ اثاثے کیسے بنائے۔ سلمان اکرم راجہ

اگر لوگ نہیں بتاتے کہ انہوں نے باہر اثاثے کیسے بنائے تو پھر پاناما اور برٹش ورجن کے قوانین کو دیکھنا ہو گا۔ سلمان اکرم راجہ

پاناما اور برٹش ورجن جیسے ممالک اپنے معاملات بہت خفیہ رکھتے ہیں میرے خیال میں کمشن ان سے کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکے گا۔ سلمان اکرم راجہ

اگر کوئی شخص ہے کہ جس نے خود کو احتساب کے لئیے پیش کر دیا ہے تو اس کا نام نواز شریف ہے۔ خرم دستگیر خان

پاناما پر سیاسی دباؤ ڈال کر صرف حکومت ہی معلومات حاسل کر سکتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ

اپوزیشن کو پاناما کی کسی لا فرم سے رابطہ کرنا چاہئیے تھا کہ ان سے کیسے معلومات لی جا سکتی ہیں۔ سلمان اکرم راجہ

میاں نواز شریف کو صرف یہ بتانا ہے کہ انہوں نے لندن میں کیسے فلیٹ خریدے پیسے کب اور کیسے اس ملک سے باہر گئے سادہ سی بات ہے۔ اسد عمر

ہمیں پاناما کی حکومت سے معلومات کی ضرورت نہیں ہے بیگم کلثوم نواز اور حسین نواز مان چکے ہیں کہ لندن میں ان کے فلیٹ ہیں۔ اسد عمر

حکومت کی مثال اس وقت ایسی ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ان سے جو پوچھیں گے اس کا جواب کبھی نہیں دیں گے۔ شاہین صہبائی

حکومت معاملے کو سیاسی رنگ دے کر طول دینے کی کوشش کرے گی اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ شاہین صہبائی

نیب کی ایک شق ہے کہ اگر آّپ کے اثاثے آپ کےلئف سٹائیل ے مماثلت نہیں رکھتے تو پھر آپ کو ثابت کرنا ہو گا کہ اثاثے درست ہیں۔ سلمان اکرم راجہ

حکومت نے کمشن کے جو ٹی او آر طے کئیے ہیں ان سے بہتر کوئی اور راستہ نہیں ہو سکتا۔ خرم دستگیر خان

کمشن کو انیس سو چھپن کے قوانین کے تحت اختیارات دئیے گئے ہیں وہ کوئی معلومات نہیں لے سکتا۔ اسد عمر

اپوزیشن پاناما پیپرز کی تحقیقات نہیں چاہتی بلکہ اس کا مقصد نواز شریف کے خلاف ہم چلانا ہے۔ خرم دستگیر

اگر کسی کے پاناما میں اثاثے تھے تو اس کو انہیں الیکشن کمشن کو دکھانا ضروری تھا۔ سلمان اکرم راجہ

حکومت نے جو کمشن بنایا ہے اس کو دیکھنا پڑے گا کہ انیس سو ترانوے سے پہلے کس طرح کرپشن کی گئی جو کہ ایک ناممکن کام ہے۔ سلمان اکرم راجہ

حکومت کو خود ہی قوم کے سامنے آ کر بتا دینا چاہئیے کہ اس نے ملک سے باہر اثاثے کیسے بنائے۔ سلمان اکرم راجہ

نواز شریف نے کمشن حقائق بتانے کے لئیے نہیں بلکہ چھپانے کے لئیے بنایا ہے لیکن اب وہ بچ نہیں سکتے۔ اسد عمر

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: