RSS Feed

10 May, 2016 05:23

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

09-MAY-2016

اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو جن لوگوں نے ٹیکس چھپایا پیسے ملک سے باہر لے گئے ان کو سزا ملنی چاہئیے۔ عبدالقادر بلوچ کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

وزیراعظم نے اس لئیے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے پاناما پیپرز پر جواب نہیں دیں گے کیونکہ پاکستان میں پہلے دن سے انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عبدالقادر بلوچ

وزیراعظم قائد ایوان ہیں انہیں پارلیمنٹ نے منتخب کیا ہے انہیں ایوان کے سامنے جوابدہ ہونا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی

اپوزیشن نے آج فلور آف دی ہاؤس وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آ کر پاناما پیپرز پر وضاحت پیش کر یں۔ شاہ محمود قریشی

وزیراعظم ایوان میں نہیں آیں گے تو ہم ہر روز ان کو آنے کی درخواست کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی

اپوزیشن کی کسی بھی جماعت نے یہ نہیں کہا کہ کرپشن یا پاناما لیکس میں جن کے نام آئے ہیں ان کے خلاف کاروائی نہ کی جائے چاہے وہ اپوزیشن کو لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ سعید غنی

وزیراعظم پر خود پر دباؤ آیا ہے تو اب وہ سب کا احتساب کروانا چاہتے ہیں انہیں پاناما لیکس کے الزامات سے پہلے بھی علم تھا کہ کس کس نے کرپشن کی ہوئی ہے۔ سعید غنی

وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس سات مہینے کے بعد بلوایا سینٹ میں وہ اب تک دو بار جبکہ پارلیمنٹ میں صرف چھ یا سات بار آئے ہیں۔ سعید غنی

پی ٹی آئی والے ایک سو چھبیس دنوں تک جن لوگوں کو کرپٹ کہتے تھے آج وہ ان سب کے ساتھ ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم کا احتساب کیا جائے۔ عبدالقادر بلوچ

ڈیوڈ کیمرون نے اپنی پارلیمنٹ کو پاناما پیپرز پر اعتماد میں لیا ان کو دستاویزات دکھائیں اب کوئی ان کے استعفے کا مطالبہ نہیں کر رہا نواز شریف بھی ایسا کریں۔ شاہ محمود قریشی

علیم خان، جہانگیرترین یا پی ٹی آئی کے کسی بھی بندے پر الزام ہو کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی

وزیراعظم خود کو صاف ثابت کر دیں گے تو پھر کوئی چاہے کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو ان کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔ سعید غنی

وزیراعظم سب کا احتساب اس لئیے چاہتے ہیں تا کہ شور مچ جائے اور کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو۔ سعید غنی

سارے ثبوت ہونے کے باوجود کبھی کسی کمشن نے کسی کو سزا نہیں دی اس لئیے لوگوں کا کمشن پر اعتماد نہیں رہا۔ شاہ محمود قریشی

حکومت نے جو کمشن بنایا ہے اس کا کائی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونہ حکومت کی ٹی او آر کے مطابق کمشن کے پاس کوئی پاور نہیں ہے۔ سید علی ظفر

ایسی تحقیقات جس میں جج تحقیقات نہ کر سکے سپریم کورٹ اس کے لئیے اپنے جج نہیں دے گی۔ علی ظفر

حکومت کے ٹی او آر کو اپوزیشن، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سب نے مسترد کر دیا ہے۔ علی ظفر

جو کمشن فیکٹس فائنڈنگ نہ کر سکے اس کمشن کا کیا فائدہ ہے ہم نے پانچ نقاط پر مشتمل اپنا ایک ٹی او آر حکومت کو دیا ہے۔ علی ظفر

انیس سو چھپن کے ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ کے سترہ جج بھی بیٹھ جایں تو ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہوں گے۔ سعید غنی

کمشن کہیں بھی سزشا دینے کے لئیے بااختیار نہیں ہوتے وہ ثبوت ڈھونڈھتے ہیں اور مل جایں تو متعلقہ ادارے سزا دیتے ہیں۔ عبدالقادر بلوچ

پاناما پیپرز میں پی ٹی آئی کے چاہے جتنے لوگوں کو بھی نام آیں عمران خان کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شاہ محمود قریشی

پی ٹی آئی کے لوگوں کے خلاف ثبوت مل جایں تو پھر انہیں قربان کرنا پڑے گا افراد کی قوموں کے مقدر کے آگے کوئی حیثیت نہیں ہے۔شاہ محمود قریشی

پیپلز پارٹی کے لوگوں کے خلاف کرپشن ثابت ہو جائے تو باقی لوگوں کی طرح ان کو بھی سزا ملنی چاہئیے۔ سعید غنی

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: