RSS Feed

11 May, 2016 03:30

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

10-MAY-2016

اپنے اثاثے ڈیکلئیر نہ کرنا در حقیقت چھپانے کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ اسد عمر کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

منی لانڈرنگ، اثاثے چھپانا ٹیکس ادا نہ کرنا ایک سے زیادہ قوانین لگ سکتے ہیں۔ اسد عمر

وزیراعظم کا نام پاناما لیکس میں نہیں ہے ان کے بچوں کا ہے اور وہ خود اپنا کیس لڑیں گے۔ خرم دستگیر خان

پی ٹی آئی کو تو اب پاناما کلب بن جانا چاہئیے۔ خرم دستگیر

جن لوگوں نے ٹیکس چوری کیا ہے ان پر الزام نہیں لگایں بلکہ حکومت ان کو پکڑ کر جیل میں ڈالے۔ اسد عمر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قرارداد پاس کی ہے کہ آف شور کمپنیوں میں جیوڈیشری کے جن لوگوں کا نام آیا ہے ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئییں۔ علی ظفر

حکومت نے تحقیقاتی کمشن کے لئیے جو ٹی او آرز دئیے ہیں وہ غیر موثر ہیں۔ علی ظفر

تحقیقاتی کمشن کے پاس ملک سے باہر جا کر ثبوت اکٹھے کرنے کا اختیار ہونا چاہئیے۔ علی ظفر

کمشن کے پاس عدالت کی طرح اختیارات ہونے چاہئییں تا کہ وہ تحقیقات کر سکے۔ علی ظفر

کمشن کو اپنا فیصلہ خود ہے چھپوانے کا بھی اختیار ہونا چاہئیے تا کہ ان کا فیصلہ عوام تک پہنچ سکے۔ علی ظفر

تحقیقاتی کمشن کا دو ماہ کے اندر اپنے فیصلے تک پہنچ جانا چاہئیے۔ علی ظفر

کمشن کو تحقیقات کے لئیے مختلف ایجنسیوں کی مدد لینے کا بھی اختیار ہونا چاہئیے۔ علی ظفر

وزیراعظم نے جوٹیکس ادا کیا ہے اور جو ان کے اثاثے ہیں وہ آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔ اسد عمر

پاناما پیپرز میں وزیراعظم کا نام ہے صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ آف شور کمپنیاں نواز شریف کے بچوں کی ہیں۔ اسدعمر

ہماری حکومت نے اپوزیشن کو پاناما لیکس پر بات چیت کے لئیے دعوت دی ہے۔ خرم دستگیر

حکومت نے اپوزیشن کو ابھی تک پاناما لیکس پر بات چیت کے لئیے دعوت نہیں دی ہے اگر دی ہے تو بتایں کہ کس کو دی ہے۔ اسد عمر

میری دعا ہے کہ پی ٹٰی آّئی کا کسی آمر کے ساتھ واسطہ نہ پڑے ہم نے ڈکٹیٹر کے دور میں بہت سختیاں جھیلی ہیں۔ خرم دستگیر

پیپلز پارٹی سے زیادہ کسی جماعت نے آمر کی سختیاں نہیں جھیلیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زرداری یا شرجیل میمن کی کرپشن جائز ہو گئی ہے۔ اسد عمر

جس قانون کا اطلاق وزیراعظم پر ہو گا وہی باقی سب پر بھی لاگو ہو گا۔ اسد عمر

سب سے پہلے کمشن کے اختیارات طے کرنے ہوں گے دیر کرنے سے حکومت کے خلاف شکوک پیدا ہو رہے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرنا چاہتی۔ علی ظفر

حکومت کے ٹی او آرز بہت نرم ہیں جبکہ اپوزیشن کے سیاسی ہیں دونوں کو درمیانی راہ اختیار کرنی ہو گی۔ علی ظفر

کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کا مسئلہ ہمیشہ کے لئیے حل ہو جائے۔ خرم دستگیر

حکومت کا اس وقت موقف ایسا ہے کہ ایک بندے کے ہاتھ میں بندوق ہے نیچے لاش پڑی ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ آئیندہ سے قتل نہ ہو۔ اسد عمر

آئیندہ کے لئیے قتل نہ ہو یہ قانون بننا چاہئیے لیکن اس وقت جو لاش پڑی ہے اس کی تحقیقات تو ہونی چاہئییں۔ اسد عمر

ہماری قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وزیراعظم پر جو الزامات ہیں ان کی وضاحت ہو کہ وہ سچ ہیں یا جھوٹ ہیں۔علی ظفر

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: