RSS Feed

7 June, 2016 17:30

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

http://videos.samaa.tv/NadeemMalik/

07-JUNE-2016

پاکستان میں کچھ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت کیسے چلانی چاہئیے۔ عابد شیر علی کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

حکومت اور فوج میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ اخلاف رائے ہو سکتا ہے جو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ عابد شیر علی

آج حکومت اور ملٹری کی ملاقات معمول کی بات ہے یہ ہوتی رہتی ہے۔ عابد شیر علی

حکومت کی طرف امریکی ْدرون حملے پر ویسا جواب نہیں دیا گیا جیسا ہونا چاہئیے تھا اس لئیے آرمی چیف نے امریکی قونصلیٹ کو بلا کر اس سے ملاقات کی۔ علی محمد خان

وزیراعظم ہاؤس میں کچھ غیر منتخب لوگ فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علی محمد خان

ہندوستان، ایران اور افغانستان کا ایک نیکس بن رہا ہے اور ہمارے وزیراعظم ملک سے باہر ہیں۔ علی محمد خان

پاکساتن کے انٹرسٹ کی بات کرنے والے ہمارے ادارے اپنا کام نہیں کر رہے ہیں۔ جنرل غلام مصطفی

اسی لئیے آج جی ایچ کیو میں میٹنگ ہوئی جو کہ نہیں ہونی چاہئیے تھی۔ جنرل غلام مصطفی

میری اطلاعات کے مطابق یہ تجویز تھی کہ نواز شریف اپنی صحت اور پاناما لیکس کے معاملات طے ہونے کے بعد واپس آ جایں۔ جنرل غلام مصطفی

انگلینڈ میں شہباز شریف، چوہدری نثار اور کچھ لوگوں کے زریعے بھی یہ تجویز پہنچائی گئی تھی۔ جنرل غلام مصطفی

چوہدری نثار گاہئ بگاہے وزیراعظم کے لئیے مسائل پیش کرتے رہتے ہیں اسی لئیے بلاول نے ان کے وزیراعظم بننے کی کوشش پر ٹویٹ کیا۔ سعید غنی

بلاول بھٹو غیر زمہ دارانہ بیانات دینے کی بجائے سندھ کے مسائل کی طرف توجہ دیں۔ عابد شیر علی

جنرل غلام مصطفی نے فوج کے متعلق غیر زمہ دارانہ بیان دے کر فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔ عابد شیر علی

عابد شیرعلی ٹھیک کہتے ہیں فوج کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہئیے لیکن پھر شہباز شریف اور چوہدری نثار آرمی چیف کو راتوں کوچھپ کر کیوں ملتے ہیں۔ علی محمد خان

عابد شیر علی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں نے وزیراعظم کو پیغام دئیے جانے کے متعلق جو بات کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ جنرل غلام مصطفی

آج آرمی چیف کے ساتھ حکومتی ارکان کی میٹنگ میں داخلی اور خارجہ امور زیر بحث آئے۔جنرل غلام مصطفی

آج ہمارا ملک ایسی تنہائی کا شکار ہے جو انیس سو اکہتر کے علاوہ کبھی پیش نہیں آئی۔ جنرل غلام مصطفی

پٹھان کوٹ کے واقع پر نواز شریف نے مودی کو سری لنکا سے فون کیا۔ جنرل غلام مصطفی

جب بھارت نے کہا کہ پاکستان پٹھان کوٹ حملے میں ملوث نہیں ہے تو ہماری طرف سے جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ جنرل غلام مصطفی

پاکستان کے تمام فیصلے ایک شخصیت کے گرد گھومتے ہیں ایسا کیوں ہے۔ جنرل غلام مصطفی

یہ بات ممکن نہیں ہے کہ وزیر خارجہ جیسی اہم وزارت کے بغیر ملک چلے۔ سعید غنی

طارق فاطمی اور سرتاج عزیز میں اختلافات ہیں دونوں خارجہ وزارت کو علحیدہ علحیدہ طریقے سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعید غنی

حکومت کا فوج کے ساتھ رابطہ میں رہنا اچھی بات ہے لیکن جس انداز میں آج کی میٹنگ کی فوٹیج آئی ہے وہ بہت ہی غیر مناسب ہے۔ سعید غنی

آرمی چیف میٹنگ کو چیر کر رہے تھے اور حکومتی ارکان سامنے بیتھے ہوئے تھے وزیر داخلہ موجود نہیں تھے۔ سعید غنی

اسرائیل کے پہلے وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان اس کا عسکری اور سیاسی لحاظ سے دشمن ہے جبکہ بھارت اس قدرتی حلیف ہے۔ علی محمد خان

مودی نے بنگلہ دیش سے پاکستان توڑنے کا ایوارڈ لیا لیکن ہماری حکومت خاموش رہی۔ علی محمد خان

ہمیں شخصیات کے سحر سے باہر نکلنا ہے ہم نے پارلیمنٹ بھی چار پانچ شخصیات کے حوالے کی ہوئی ہے اشوز پر بات نہیں کرتے۔ جنرل غلام مصطفی

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: