RSS Feed

1 June, 2017 04:59

Posted on

NADEEM MALIK LIVE

www.samaa.tv/videos/NadeemMalik

31-MAY-2017

مسلم لیگ ن والے ہر حد کو عبور کر سکتے ہیں ۔ آج کے واحد مہمان اعتزاز احسن کی ندیم ملک لائیو میں گفتگو

پیپلز پارٹی سینٹ کا ٹکٹ ان لوگوں کو دیتی ہے جنہوں نے پارٹی کا جھنڈا تھاما اور جدوجہد کی۔

مسلم لیگ ن سینٹ کا ٹکٹ ججوں اور جرنیلوں کو دیتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے خلاف کیس بن جائے تو یہ اس کو لٹکاتے ہیں وقت لیتے ہیں۔

میں پہلے دن دے کہہ رہا ہوں کہ جے آئی ٹی نواز شریف کا احتساب نہیں کر سکتی۔

نہال ہاشمی کے اندر نواز شریف بول رہا تھا۔

میرے خیال میں یہ خبر کہ سپریم کورٹ کے رجٹرار نے جے آئی ٹی کے لئیے وٹس اپ کال کی ایک گھڑی ہوئی خبر ہے۔

شریف خاندان کا آخری حربہ یہ ہوتا ہے کہ پاؤں پکڑ لیتے ہیں اور اگر مستحکم ہو جایں تو پھر گلا پکڑ لیتے ہیں۔

نہال ہاشمی کو معطلی مہنگی نہیں پڑے گی بعد میں انعام کے طور پر انہیں گورنر یا صدر لگا دیں گے۔

مسلم لیگ ن والے کہتے ہیں کہ وہ تین پشتوں کا حساب دے رہے ہیں لیکن اب تک انہوں نے ایک کاغز بھی نہیں دیا۔

نواز شریف خود بھی بڑی عاجزی سے عدالت کے سامنے پیش ہو جایں گے اور پھر اگلے پانچ سال تک عدل کا ڈھنڈورا پیٹیں گے۔

رجسٹرار کی مجال اور مقام نہیں ہے کہ وہ کال کرے کہ فلاں شخص کو جے آئی ٹی کا رکن بنا دیں یہ ججوں پر پریشر ڈالنے کا طریقہ ہے۔

جب تک چیف جسٹس رجسٹرار کو نہ کہے وہ خود یہ کام نہیں کر سکتا۔

وٹس اپ کال والی بات در اصل مسلم لیگ ن کی طرف سے براہ راست ججوں پر الزام لگانا ہے۔

سپریم کورٹ کو مسلم لیگ ن کے الزام پر ایک فل بینچ تشکیل دینا چاہئیے۔

جب شریف خاندان نے جائیداد کی ملکیت تسلیم کر لی تو پھر یہ چار دن کا کیس تھا پانچویں دن فیصلہ آ جانا چاہئیے تھا۔

شریف خاندان کے پاس کوئی منی ٹریل ہوتی تو اب تک سامنے آ چکی ہوتی۔

حدیبیہ کیس میں اگر مان بھی لیا جائے کہ ڈار نے دباؤ میں بیان دیا لیکن چیکوں کی کاپیاں جو ساتھ لگائی ہیں ان کی تصدیق تو ہو سکتی ہے۔

رحمان ملک نے حدیبہ پیر مل کیس کے تمام ثبوت اکٹھے کر لئیے تھے کہ ہماری حکومت تبدیل ہو گئی۔

نہال ہاشمی جب سپریم کورٹ کے ججوں کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ درگزر سے کام لیں گے۔

http://naeemmalik.wordpress.com/

Advertisements

About NadeemMalikLive

NADEEM MALIK LIVE IS A FLAGSHIP CURRENT AFFAIRS PROGRAMME OF SAMAA.TV

Comments are closed.

%d bloggers like this: